لاہور: وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ پنجاب میں گندم کی کوئی قلت نہیں، سیلاب کے نام پر آٹے کی قیمت نہیں بڑھنے دیں گے۔لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے صوبائی وزیر اعظم بخاری نے کہا کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف گندم اور آٹے کی قیمتوں پر مسلسل پریشان ہیں۔ صوبے میں گندم کی کوئی کمی نہیں لیکن بعض عناصر سیلاب جیسی تباہی کو منافع کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تمام فلور مل مالکان، مڈل مین اور متعلقہ افراد کو گندم کے سٹاک کی رجسٹریشن کے لیے تین دن کا وقت دیا جا رہا ہے، بصورت دیگر قانون حرکت میں آئے گا، 14 روپے فی روٹی کی قیمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ خانیوال میں سرکاری گندم کو بروقت نہ ہٹایا گیا اور پانی میں بہہ گیا۔ اس غفلت پر ڈی جی فوڈ خانیوال اور تمام متعلقہ عملے کو معطل کر دیا گیا ہے۔ گندم کا ایک ایک دانہ عوام کی امانت ہے۔ مویشیوں اور انسانوں کو نکال دیا گیا مگر گندم اور آٹا کیوں نہیں؟ اس کا احتساب کرنا پڑے گا۔صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت نے گندم کی قیمت 3 ہزار روپے اور روٹی کی قیمت 14 روپے مقرر کی ہے، اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے پی ٹی آئی کے انتخابی بائیکاٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر بائیکاٹ ہی کرنا تھا تو بیلٹ پیپر پر نام کیوں چھاپا۔ یہ سب محض ڈرامہ تھا۔ رانا ثناء اللہ بھاری اکثریت سے سینیٹر منتخب ہو جائیں گے۔ مسلم لیگ ن کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ہم رانا صاحب کو ووٹ دے کر سینیٹ میں بھیج رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کو امپائر کے ساتھ مل کر کھیلنے کی عادت ہے۔عظمیٰ بخاری نے مزید کہا کہ گزشتہ روز صحافی طیب بلوچ کے ساتھ غنڈہ گردی اور دہشت گردی کا واقعہ پیش آیا جس سے ثابت ہوگیا کہ پی ٹی آئی شرپسندوں کی جماعت ہے۔ پی ٹی آئی کوئی سیاسی جماعت نہیں، سیاسی جماعت یہ حرکتیں نہیں کرتی۔








Leave a Comment