لاہور: بھارت کی جانب سے دریاؤں میں چھوڑے جانے والے اضافی پانی نے پنجاب کے جنوبی علاقوں میں تباہی مچا دی۔ دریائے ستلج، راوی اور چناب میں شدید طغیانی کے باعث کئی بند ٹوٹ گئے اور درجنوں دیہات زیر آب آگئے۔ منڈی بہاؤالدین میں دو نوجوان ڈوب کر جاں بحق۔شجاع آباد میں شیر شاہ کے قریب بستی گاگرہ کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، 200 فٹ چوڑا شگاف کھل گیا، پانی قریبی بستیوں میں داخل ہوگیا۔ ملتان میں بستی گری والا میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ، لاکھوں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آ گئیں۔جھنگ میں شورکوٹ کے مقام پر دریائے چناب میں درمیانے درجے کا سیلاب آیا، سلطان باہو پل سے 2 لاکھ 60 ہزار کیوسک ریل گزری۔ درخانہ کے مقام پر سیلابی پانی ریلوے پل سے ٹکرانے سے شورکوٹ خانیوال ریلوے سیکشن دوسرے روز بھی بند رہا۔پنڈی بھٹیاں میں ہائی فلڈ الرٹ جاری کر دیا گیا، 5 لاکھ 57 ہزار کی ٹرین گزر رہی ہے، احمد پور سیال میں سمندوانہ ڈیم میں شگاف پڑ گیا، متعدد علاقے زیرآب آگئے، فصلوں کو نقصان پہنچا، لیاقت پور میں دریائے چناب اور دریائے سندھ کے سیلابی پانی نے تباہی مچا دی۔نور والا گاؤں کی متعدد بستیاں سیلابی پانی میں ڈوب گئیں، بڑے رقبے پر فصلیں بھی ڈوب گئیں، چنیوٹ میں امدادی ٹیموں نے ٹھٹھہ حشمت اور ڈوم گاؤں میں امدادی کارروائیاں جاری رکھیں، 25 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، اب تک 1312 افراد کو ریسکیو کیا جا چکا ہے۔خانیوال میں بھی سیلاب نے تباہی مچادی، درجنوں دیہات زیرآب آگئے، اوچ شریف میں دریائے ستلج کا طغیانی سے پانی مزید 20 رہائشی بستیوں میں داخل ہوگیا، ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیرآب آگئیں۔ریسکیو ٹیمیں اور ضلعی انتظامیہ متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں تاہم پانی کی شدت کے باعث کئی مقامات تک پہنچنا مشکل ہو رہا ہے۔دریائے چناب میں تریموں کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، تریموں بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 31 ہزار کیوسک ہے۔عارف والا کے مقام پر دریائے ستلج میں سیلابی صورتحال خطرناک ہونے کا خدشہ، چک یاسین میں کئی فٹ سیلابی پانی جمع ہوگیا، چک یاسین میں سرکاری اسکول سیلابی ریلے کی لپیٹ میں آگیا، مزید کئی دیہات سیلابی ریلے کی زد میں آگئے، ہزاروں ایکڑ پر کاشت کی گئی فصلیں، مواصلاتی سڑکیں، متعدد دیہات زیر آب آگئے۔ادھر ہیڈ بلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ساہیوال میں قطب شاہانہ کے مقام پر پانی کی سطح میں اضافے کے باعث الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ قطب شاہانہ پر 131,500 کیوسک اور چیچہ وطنی میں 126,400 کیوسک کا بہاؤ جاری ہے۔








Leave a Comment