اسلام آباد: دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ قطر پر اسرائیلی حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، پاکستانی قوم برادر ملک قطر کے ساتھ کھڑی ہے، وزیراعظم نے اسرائیلی اشتعال انگیزیوں کے خلاف امت مسلمہ کے اتحاد پر زور دیا ہے۔پریس بریفنگ میں ترجمان دفتر خارجہ شفقت علی خان نے کہا کہ پاکستان غزہ میں اسرائیلی مظالم کی مذمت کرتا ہے، پاکستان تنازعہ فلسطین کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق چاہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف وزیراعظم شہباز شریف نے قطر کا ہنگامی دورہ کیا، پاکستانی قوم برادر ملک قطر کے ساتھ کھڑی ہے، قطر پر اسرائیلی حملہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، ہنگامی اجلاس پاکستان اور صومالیہ کی درخواست پر بلایا گیا تھا۔ترجمان نے کہا کہ اسرائیل کا ثالث ملک قطر کو نشانہ بنانا امن مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کی کوشش ہے، پاکستان اور قطر نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے رہے، وزیراعظم نے قطری قیادت کو پاکستان کی مکمل حمایت اور یکجہتی کا یقین دلایا۔دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ قازقستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے پاکستان کا دورہ کیا جس میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔وزارت خارجہ کے ترجمان شفقت علی خان نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے خودمختار ریاستوں پر بار بار حملے تشویشناک ہیں اور اسی تناظر میں دوحہ میں عرب اسلامی سربراہی اجلاس بلایا گیا ہے۔ پاکستان مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اپنے دفاع کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے 10 ستمبر کو شنگھائی تعاون تنظیم کی انسداد دہشت گردی ذیلی تنظیم کی سربراہی سنبھال لی ہے اور علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ترجمان دفتر خارجہ نے کشمیری حریت رہنما شبیر احمد شاہ کو کینسر کے باوجود ضمانت نہ دینے کی مذمت کی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی تعاون سمیت مضبوط تعلقات ہیں۔ ترک وزیر دفاع کا حالیہ دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی تھا۔ جب صدر آصف زرداری سے دورہ چین کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ یہ دورہ ہنگامی نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ تھا۔ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت نے حالیہ سیلاب سے متعلق حکومت کو پیشگی آگاہ کر دیا تھا تاہم ماضی کی طرح تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں اور نہ ہی انڈس واٹر کمشنر فورم کو آگاہ کیا گیا۔علی امین گنڈا پور کے معطل شدہ پاسپورٹ سے متعلق پوچھے جانے پر ترجمان نے کہا کہ وزارت داخلہ اس حوالے سے وضاحت دے سکتی ہے جب کہ بیرونی ممالک سے بات چیت اور بات چیت وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ سیلاب کے پیش نظر بین الاقوامی امداد کی اپیل کرنا وفاقی حکومت کا اختیار ہے۔ وفاقی حکومت جب مناسب سمجھے گی اپیل کرے گی۔








Leave a Comment