اسلام آباد: (کو رٹ رپو رٹر) سپریم کورٹ نے ذوالفقار علی بھٹو پھانسی کیس میں دائر صدارتی ریفرنس سماعت کیلئے مقرر کر دیا۔چیف جسٹس پاکستان قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 9 رکنی بنچ 20 فروری کو سماعت کرے گا۔جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس امین الدین خان، جسٹس جمال خان مندوخیل، جسٹس محمد علی مظہر، جسٹس حسن اظہر رضوی اور جسٹس مسرت ہلالی لارجر بنچ میں شامل ہیں۔یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ سماعت پر عدالتی معاونین سے تحریری دلائل طلب کئے تھے۔
واضح رہے کہ 12 برس قبل 2011 میں سابق صدرآصف علی زرداری نے دایرکیاتھا ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پر اب تک سپریم کورٹ میں 7 سماعتیں ہو چکی ہیں۔صدارتی ریفرنس پر پہلی سماعت 2 جنوری 2012 کو جبکہ 11سال قبل آخری سماعت 12 نومبر 2012 کو ہوئی تھی جس کے بعد مزید کوئی سماعت نہیں ہو سکی تھی۔
صدارتی ریفرنس پر پہلی 5 سماعتیں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 11 رکنی لارجر بینچ نے کیں جبکہ آخری سماعت 9 رکنی لارجر بینچ نے کی تھی۔تاہم حال ہی میں اس کیس کو دوبارہ سماعت کے لیے مقرر کیا گیا جس کے تحت مقدمے کی چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی زیر سربراہی 12 دسمبر کو 9رکنی بینچ نے مقدمے کی دوبارہ سماعت کی تھی۔
سابق وزیر اعظم ذوالفقار بھٹو سے متعلق صدارتی ریفرنس پانچ سوالات پر مبنی ہے۔ صدارتی ریفرنس کا پہلا سوال یہ ہے کہ ذوالفقار بھٹو کے قتل کا ٹرائل آئین میں درج بنیادی انسانی حقوق مطابق تھا؟۔دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا ذوالفقار بھٹو کو پھانسی کی سزا دینے کا سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالتی نظیر کے طور پر سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس پر آرٹیکل 189 کے تحت لاگو ہوگا؟ اگر نہیں تو اس فیصلے کے نتائج کیا ہوں گے؟ تیسرا سوال یہ ہے کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانا منصفانہ فیصلہ تھا؟ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت سنانے کا فیصلہ جانبدار نہیں تھا؟۔
چوتھے سوال میں پوچھا گیا ہے کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کو سنائی جانے والی سزائے موت قرآنی احکامات کی روشنی میں درست ہے؟ جبکہ پانچواں سوال یہ ہے کہ کیا ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف دیے گئے ثبوت اور گواہان کے بیانات ان کو سزا سنانے کے لیے کافی تھے۔


Leave a Comment