سیاسی جماعتیں، امیدوار ایسی رائے کا اظہار نہیں کریں گے جو نظریہ پاکستان، ملکی خودمختاری، سلامتی، سالمیت کے خلاف ہو، الیکشن کمیشن
ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ضابطہ اخلاق الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ پربھی موجود ہے ۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اعلامیے کے مطابق سیاسی جماعتیں، امیدوار ایسی رائے کا اظہار نہیں کریں گے جو نظریہ پاکستان، ملکی خودمختاری، سلامتی، سالمیت کے خلاف ہو۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سیاسی جماعتیں ایسی رائے کا بھی اظہار نہیں کریں گی جس سے عدلیہ یا فوج کی شہرت کو نقصان پہنچے یا ان کی تضحیک ہو۔
اس کے علاوہ سیاسی جماعتیں الیکشن کمیشن کی تضحیک سے اجتناب کریں گی۔
الیکشن کمیشن کے اعلامیے کے مطابق مخالف امیدوار کو دستبردار یا ریٹائر ہونے کی ترغیب یا اس کے لیے رشوت یا تحفہ دینے سے گریز کیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیں
- عام انتخابات: الیکشن میں حصہ لینے کیلئے امیدوار کی بنیادی اہلیت کی تفصیلات جاری
- الیکشن 8 فروری کو ہی ہونگے، سپریم کورٹ کے حکم پر عام انتخابات 2024 کا شیڈول جاری
الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق میں کہا گیا ہے کہ امیداروں کے انتخاب کے وقت خواتین کی 5 فیصد نمائندگی کو یقینی بنایا جائے گا۔
ضابطہ اخلاق کے مطابق سیاسی جماعتیں ایسے معاہدے میں شرکت نہیں کریں گی جس کا مقصد مرد، خواتین اور ٹرانسجینڈر کو امیدوار بننے سے روکنا یا ان کو ووٹ سے محروم کرنا ہو۔
حلقہ بندیوں سے متعلق میڈیا کی خبروں پر وضاحت میں الیکشن کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے کہ الیکشن ایکٹ 2017 اور رولزکے تحت حلقہ بندیوں کے اصول واضح ہیں، صوبے کی آبادی کو مختص سیٹوں پر تقسیم کیا جاتا ہے تو ہر سیٹ کے کوٹے کا تعین ہو جا تا ہے، اگر کسی ضلع کی سیٹوں کا حصہ 4.49 بنتا ہے تو اسے 4 سیٹیں دی جاتی ہیں۔


Leave a Comment