آئی ایم ایف کوئی شوق سے نہیں جارہا،آئی ایم ایف سے متعلق پی ٹی آئی کا بیان افسوسناک ہے، پی ٹی آئی پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے ،پی ٹی آئی سینیٹر کے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا نقصان پاکستان کو ہوگا، پاکستان کے لیے بیرونی امداد کا راستہ روکنا کونسی حب الوطنی ہے، سینٹ میں خطاب
آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا اقدام درست نہیں،ہم سب عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوئے،2013اور2018کے انتخابات پر تحفظات ہیں، روبینہ خالد
اسلام آباد (اسمبلی رپو رٹر ) پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاہے کہ بانی پاکستان تحریک انصاف کے دور میں بھی ہم آئی ایم ایف گئے تھے، ہماری نیک نیتی پر کوئی شک نہیں ہونا چاہیے، آئی ایم ایف کوئی شوق سے نہیں جارہا،آئی ایم ایف سے متعلق پی ٹی آئی کا بیان افسوسناک ہے، پی ٹی آئی پاکستان کے مفادات کو نقصان پہنچانا چاہتی ہے،پی ٹی آئی سینیٹر کے آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا نقصان پاکستان کو ہوگا، پاکستان کے لیے بیرونی امداد کا راستہ روکنا کونسی حب الوطنی ہے۔
جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس ڈپٹی چیئرمین مرزا محمد آفریدی کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں پٹرولیم،تعلیم،موسمیاتی تبدیلی ،خزانہ کے کمیٹیوں کی رپورٹس پیش کی گئیں ۔ سینیٹر مشتاق احمدنے کہاکہ سپریم کورٹ نے قادیانیوں سے متعلق ایک فیصلہ دیا ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے میں بہت سقم ہے،میں اس فیصلے کیخلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کروں گا۔ انہوںنے کہاکہ سپریم کورٹ نے غلطی کی ہے اور اس غلطی کو درست کرے۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے یہاں اقلیتوں کو حقوق حاصل ہیں،قادیانی دراصل اقلیت نہیں بلکہ ایک فتنہ ہے،قادیانی کا مقصد اسلام کے لبادے میں فساد اور فتنہ پھیلانا ہے۔ انہوںنے کہاکہ ختم نبوت کا مسئلہ ہماری ریڈ لائن ہے۔ اجلاس کے دور ان آئیسکو کی جانب سے مہینے کے آخری ہفتے میں بل بھیجنے کیخلاف توجہ دلائو نوٹس سینیٹر فوزیہ ارشد نے پیش کیا ۔
انہوںنے کہاکہ لوگوں کے مطالبے پر یہ توجہ دلائو نوٹس پیش کیا،آئیسکو کی جانب سے بجلی بل ماہ کے آخری ہفتے میں بھیجے جاتے ہیں۔ فوزیہ ارشد نے کہاکہ اگر بل آخری ہفتے میں بھیجا جاتا ہے تو ادائیگی کیلئے مہینے کے پہلے ہفتے تک کا وقت دیا جائے۔ وزیر پارلیمانی امور نے کہاکہ متعلقہ ملک سے باہر ہیاور اد بارے وزارت کی جانب سے ہمیں بریفینگ بھی نہیں دی گئی۔ مرتضیٰ سولنگی نے کہاکہ توجہ دلائو نوٹس سے بالکل اتفاق کرتا ہوں۔ڈپٹی چیئر مین سینٹ نے کہاکہ متعلقہ وزیر ایوان کو سنجیدہ کیوں نہیں لے رہے،وقفہ سوالات کے جوابات بھی نہیں دیتے۔
انہوںنے کہاکہ متعلقہ وزارت سے کون کون آئے ہیں،حاضری پیش کریں۔ اجلاس کے دور ان سینیٹر عرفان صدیقی نے کہاکہ گزشتہ روز سینیٹر علی ظفر نے پریس کانفرنس میں آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا انکشاف کیا،مجھے اس طرز عمل سے بہت دکھ ہوا۔ انہوںنے کہاکہ یہ عمل کسی فرد کیخلاف نہیں،پورے 24کروڑ عوام کے خلاف ہے۔ انہوںنے کہاکہ 2018میں بھی دھاندلی ہوئی ہم نے تو آئی ایم ایف کو خط نہیں لکھا،آپ کا جھگڑا فوج یاکسی اور سے ہے تو اسمیں بین الاقوامی امداد کو روکنا درست نہیں۔
انہوںنے کہاکہ 2022میں بھی شوکت ترین اور پی ٹی آئی کے رہنمائوں کی گفتگو سامنے آئی تھی۔سینیٹر ذیشان خانزادہ نے کہاکہ بانی چیئرمین نے کہا معاشی استحکام کیلئے سیاسی استحکام کی بات کی،سیاسی استحکام کیلئے عوامی مینڈیٹ والی جماعت کو حکومت کا حق ہے،خط میں بھی بانی پی ٹی آئی اسکو اجاگر کرنا چاہتے ہیں۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا اقدام درست نہیں،ہم سب عوام کو ریلیف دینے میں ناکام ہوئے۔ انہوںنے کہاکہ ہمیں 2013اور2018کے انتخابات پر تحفظات ہیں۔
انہوںنے کہاکہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے تقسیم کی سیاست ختم کرنے کی بات کی ہے۔ انہوںنے کہاکہ سب کو مل بیٹھ کرحل نکالنا ہو گا،بات چیت کرنا ضرور ی ہے،اس کے بغیر کوئی حل نہیں نکلے گا۔سینیٹر شہادت اعوان نے کہاکہ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کسی قانون کو نہیں چھیڑا،خاص ایف آئی آر میں فیصلہ دیا گیا۔سینیٹر مولوی فیض محمد نے کہاکہ کسی بھی مسلم ملک میں اقلیتوں کے جان و مال کی حفاظت ریاست کی ذمہ داری ہے،اقلیتوں کو مذہبی عبادات کی مکمل آزادی حاصل ہے۔ بعد ازاں سینیٹ کا اجلاس پیر سہ تین بجے تک ملتوی کر دی گئی ۔


Leave a Comment