آغارفیع اللہ اور جمشید دستی کے درمیان جھڑپ ،تلخ کلامی اور تندوتیز جملوں کا تبادلہ،سپیکر ڈائس کا گھیرائو،وزیر اعظم کی کرسی تک پہنچ گئے
یہ تو بہت جذباتی لوگ ہیں دو گھنٹے سے احتجاج کررہے تھے اور ایک فقرے پہ چیخ اٹھے،یہ ایوان سب اداروں کی ماں ہے،بلاول بھٹو زرداری
اسلام آبا د(رپو ر ٹر)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید ہنگامہ ،نعرے بازی ،گوزرداری گو کے نعرے لگا دیئے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت ہوا ،اجلاس کے آغاز پر ہی اپوزیشن اراکین نے شدید احتجاج کیا اور ایوان مچھلی منڈی بنی رہی ہے،پیپلز پارٹی آغا رفیع اللہ اور جمشید دستی کے درمیان جھڑپ ہوئی،تلخ کلامی اورتندو تیز جملوں کا تبادلہ ہوا ،اپوزیشن اراکین کا سپیکر ڈائس کا گھیراؤکر لیا اور وزیر اعظم کے کرسی کے قریب پہنچ گئے ۔بلاول بھٹو زرداری کی ایوان میں تقریر کے دوران اپوزیشن نے شدید احتجاج کیا نازیبا الفاظ استعمال کرتے رہے،اس دوران پیپلز پارٹی اراکین نے بلاول ہے گرد حصار بنا لیا،پیپلز پارٹی اراکین اپوزیشن اراکین کو نعرہ بازی سے روکتے رہے ،ن لیگ اراکین وزیر اعظم کے پاس جمع ہوگئے ہیں اور اپوزیشن اراکین کو کرسی سے دور رہنے کی تلقین کرتے رہے،بلاول کی تقریر کے دوران سنی اتحاد کونسل اراکین کے گو زرداری گو کے نعرے لگا دیئے اور بلاول بھٹو زرداری کی نشست کے سامنے جمع ہوگئے ،پیپلز پارٹی کے آغا رفیع اللہ اور سنی اتحاد کونسل کے اراکین کے آپس میں تلخ جملوں کا تبادلہ بھی ہوا ۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ الزام لگائیں گے اور ہم جواب نہیں دیں گے،یہ تو بہت جذباتی لوگ ہیں دو گھنٹے سے احتجاج کررہے تھے اور ایک فقرے پہ چیخ اٹھے ،اگر حکومت کی جانب سے ان کے خلاف کوئی قدم اٹھایا جاتا ہے تو ان کا دفاع کروں گا،اگر یہ کوئی غیر جمہوری کام کریں گے تو ان کے خلاف کھڑا ہو جاؤں گا،بلاول نے کہا کہ محمود خان اچکزئی نے قراردادیں پاس کرنے کی بات کی،آپ جتنے قرارداد پاس کریں جب تک سیاستدان ایک دوسرے کی عزت نہیں کریں گے کوئی عزت نہیں کرے گا ،سنی اتحاد کونسل کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کی تقریر کے الفاظ حذف کرنے کی درخواست کی جس پر سپیکر نے کہا کہ جو الفاظ حذف کرنا ہوں گے میں کروں گا ۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ ایوان نہ میرا ہے نہ ان کا ہے، یہ سب کا ہے ،یہ تمام اداروں کی ماں ہے،اگر اس جمہوری ادارے کو طاقتور بنائیں گے تو ہم عوام کو طاقتور بنا رہے ہیں،کل افسوس ہو رہا تھا، جس طریقے سے ممبران احتجاج کے نام پر ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے تھے،ہم ایک بہت خطرناک مرحلے میں پہنچ چکے ہیں،اس الیکشن میں عوام نے ووٹ دیئے تو وہ چاہتے ہیں معاشی بحران سے نکالا جائے،قائد حزب اختلاف احتجاج کر رہا ہے کہ اس کی تقریر پی ٹی وی پر نہیں دکھائی جاتی،جو روایت خان صاحب نے ڈالی تھی اس کو برقرار نیں رکھنا چاہئے،ہم فارم 47 یا فارم 45 کی وجہ سے نہیں کارکنوں کی محنت کی وجہ سے یہاں پہنچے ہیں،انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں ہماریامیدواروں پر حملے ہوتے رہے،مستونگ میں ہمارے امیدوار پر حملہ ہوا،پاکستان میں الیکشنز ایسے ہوتے ہیں کہ ہمارے کارکن کو شہید کیا جاتا ہے
،اس قسم کے واقعہ کی ایک بار پھر مذمت کرتا ہوں،پیپلز پارٹی چارٹر آف نیشنل ریکنسیلیشن کو انڈورس کرتی ہے،چارٹر آف اکنامی کی بات کی گئی ، یہ بہت ضروری ہے،ایک جماعت فیصلہ نہیں کرسکتی،آپ کو تمام مخصوص نشستیں مل بھی جائیں تو پیپلز پارٹی کے بغیر آپ یہ کرسی نہیں سنبھال سکتے،عوام نے ان کو اکثریت نہیں دی،ہمیں آپس میں بات کرنی چاہئے،بلاول نے کہا کہ لوگ مہنگائی، بے روزگاری غربت کی وجہ سے تنگ آ چکے ہیں ،اگر آپ کو ووٹ ملا ہے تو اس لئے نہیں کہ یہاں آکر گالی دیں،پاکستان کی عوام جائیں تو جائیں کہاں،قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے آمدنی میں اضافہ نہیں ہوتا،جو بھی پالیسی وزیر اعظم سامنے لائیں گے سب کی ان پٹ ہوگی
تو وہ بہتر پالیسی ہوگی،آئین مل بیٹھ کر پاکستان اور عوام کو معاشی مشکل سے نکالیں،عمر ایوب خان کو اتنا اپنے منشور کے بارے میں پتہ نہیں ہوگا جتنا مجھے اپنے منشور کے بارے میں پتہ ہے،کل شہباز شریف تقریر میں معاشی مشکلات کے بارے میں
بات کر رہے تھے،18 وین ترمیم کے بعد جو اقدامات وفاقی حکومت کو لینے چاہئے تھے، وہ نہیں لئے گئے،جو وفاق میں وزارتیں ہیں وہ صوبائی حکومت میں ہونی چاہئیں،وزارتوں کو صوبوں کو منتقل ہونا چاہئے تھا،یہ موقع ہے شہباز شریف انقلابی قدم اٹھا سکتے ہیں،امیروں کو سبسڈی دی جاتی ہے، فرٹیلائزر سبسڈی سیدھا کمپنیوں کو جاتی ہے،گڈز پر سیلز ٹیکس کلیکشن کی ذمہ داری صوبوں کو دیں،ضروری ہے جوڈیشل اور الیکٹورل ریفارمز کریں،الیکشن ریفارمز اور جوڈیشل ریفارمز پر ہمارا ساتھ دیں،اگر ان چیزوں کو حل کر سکتے ہیں تو دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کی جمہوریت کو کمزور نہیں کرسکتی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے سب جماعتوں کو مل کر کام کر کرنا ہوگا ۔ اس شخص کا نواسہ ہوں جس نے قومی سلامتی کی خاطر پھانسی کا پھندا قبول کیا ، آئین اور جمہوریت کے خلاف کام کرنے وا لے مجھے بھی اپنے سامنے کھڑا پائیں گے ۔ محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ صدارتی انتخاب کو متنازعہ بنانے کی سا زش ہے ۔ وزیراعظم سے معاملے کی تحقیقات کی اپیل ہے ۔ بانی پی ٹی آئی نے سائفر کے معاملے پر ملک کو نقصان پہنچایا ۔ تمام جماعتوں کو میثاق معیشت اور میثاق جمہوریت کے لئے مل بیٹھنا چاہیے ۔ ،ہمیں ایوان کی مضبوطی کے لئے کام کرنا چاہیے ۔ اپوزیشن کے احتجاجی روئیے سے مایوسی پھیلے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت کی مضبوطی کے لئے ہم سب کو ملک کر کام کرنا ہو گا ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ہم سب کو مل کر کام کرنے کی دعوت دی ہے ۔ ہمیں اس دعوت کو ایک موقع کے طور پر لیتے ہوے عوام کی حقیقی معنوں میں خد مت کر کے خود کو منوا نا چاہیے ۔ اور اگر کوئی اس دعوت کو قبول نہیں کرتا تو پھر احتجا ج یا تنقید کا حق بھی کسی کو نہیں پہنچتا ۔ انہوں نے کہا کہ میثاق جمہوریت اور میثاق معیشت کے لئے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہو گا ۔ عوام ہماری پارٹیوں کی آپس کی لڑائی سے تھک چکے ہیں ۔ انتخابی اور عدالتی اصلا حات کے لئے اپوزیشن کو بھی مل بیٹھنے کی دعوت دیتے ہوے بلاول کا کہنا تھا کہ تمام ملکی مسائل کے حل کے لئے مل بیٹھنا اس وقت حالات کا تقاضا ہے ۔
جوڈیشل اور انتخابی اصلاحات پر تجاویز دیں قانون سازی ہم کریں گے۔ انہوںنے کہا کہ ہم فارم پینتالیس کی بات کرتے تھے تو آپ طنز کرتے تھے لیکن ہم آپ کا مذاق نہیں اڑائیں گے ۔ محمود خان اچکزئی کے گھر پر چھاپے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محمود خان اچکزئی صدارتی امیدوار ہیں ان کے گھر پرچھاپہ مار کرکے بلاوجہ صدارتی الیکشن کو متنازعہ بنایاجارہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج صبح مجھے پتہ چلاکہ محمود اچکزئی کے گھر پر چھاپہ مارا گیا ہے۔میں وزیراعظم شہباز شریف اوروزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے اپیل کروں گاکہ چھاپے کیخلاف ایکشن لیں۔پارلیمان نہ میرا ہے نہ ان کا ہے یہ ایوان ہم سب کا ہے۔یہ ایوان اداروں کی ماں ہے۔
قومی اسمبلی کی عمارت کا سنگ بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھا تھا۔اس ایوان کو کمزور کرینگے تو خود وفاق اورجمہوری نظام کمزور کرینگے۔میں بزرگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ایسے فیصلے لیں جس سے ادارے مضبوط ہوں۔بلاول بھٹو زرداری نے اپنے خطاب میں مزید کہا کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔پاکستان خطرناک مرحلے میں پہنچ چکا ہے۔ہمیں نوجوانوں کے روشن مستقبل کے فیصلے کرناہونگے۔نظام کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں بحران کا سامنا ہے۔ملک میں مہنگائی ،غربت اور بے روزگاری کا سونامی طوفان ہے۔احتجاج کے نام پر ایک دوسرے کو گالیاں نہ دی جائیں۔ ایسے فیصلے کئے جائیں جس کے دور رس اثرات ہوں۔مختلف علاقوں میں ہمارے رہنماوں و کارکنوں پر حملے ہوئے۔نئی نسل اگر سیاستدان بننا چاہتی ہے تو ہمیں آسانیا ں پیدا کرنا چاہیںایسا نہ ہوکہ وہ ہمیں گالیاں دیں اور اس سے جمہوریت کمزور ہو۔عوام ہم سب کی طرف دیکھ رہے ہیں۔کارکنوں نے ہمیں یہاں پہنچانے کیلئے قربانیاں دی ہیں۔ہارون بلورکا نوجوان بیٹابطور ممبر ہمارے ایوان میں موجود ہے۔احتجاج کے نام پر گالیاں دینے سے لوگ مایوس ہونگے۔
بانی پی ٹی آئی کی روایات کو برقرار نہیں رکھنا چاہئے تمام ایوان میں کی جانے والی تقریریں براہ راست دکھانی چاہیں۔میثاق معیشت بھی بہت ضروری ہے۔انتخابات کے دوران کارکنوں کو شہید کرنے کی مذمت کرتاہوں۔وزیراعظم ،اپوزیشن لیڈر او ر چاروں وزرائے اعلیٰ کو مبارکباد پیش کرتاہوں۔ملک میں بحران ہے لوگ آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خان صاحب نے ٹی وی پر آکر کہا کہ سائفر مجھ سے گم ہو گیا ۔ سائفر کی کاپی اگر دشمن کو مل جاتی ہے تو کوڈ ٹریک ہو سکتا ہے اور خان صاحب یہ سب جانتے تھے ۔
انکی گرفتاری کے بعد سائفر کے بعد مبینہ سائفر غیر ملکی اخبار میں چھپا اور یہ قومی سلامتی پر سمجھوتا ہے ۔ بلاول نے کہا میں آئین کی خلاف ورزی کی کروں تو مجھے اور یہ کریں تو انکو سزا ملنی چاہیے ۔ میں اس شخص کا نواسہ ہوں جس نے قومی راز سینے میں دفن رکھے ۔ پھانسی کا پھندا قبول کیا لیکن ا ٓئین اور اصولوں پر کھبی کوئی سمجھوتا نہیں کیا ۔ آئین توڑیں گے جمہوریت کے خلاف کام کریں گے تو مجھے سامنے کھڑا پائیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بھی گھر پر چھاپا مار کر خفیہ دستاویزات کو برآمد کیا گیا تھا ۔
سائفر کے معاملے پر بانی پی ٹی آئی پر تنقید کرنے پر اپوزیشن اراکین نے شور شرابا اور احتجاج شروع کر دیا جس پر بلاول نے کہا کہ احتجاج کرنے والوں کو ہماری بات سننے کا حوصلہ ہونا چاہیے ۔ تاہم اپوزیشن اراکین گو زرداری گو کے نعرے بلند کرتے رہے۔ بلاول نے شو ر شرابا کرنے والوں کو کارٹون قرار دیدیا ۔ بعد میں بلاول نے کہا میں مانتا ہوں میرے الفاظ ٹھیک نہیں تھے کارروائی سے حذف کر دئیے جائیں ۔


Leave a Comment