سینئر جج جسٹس اعجاز الاحسن بھی مستعفی
یہ نہیں ہو سکتا کوئی جج ادارے کی ساکھ تباہ کر کے مستعفی ہوجائے،جوڈیشل کونسل کا جسٹس مظاہر کو نوٹس
استعفیٰ دینا کسی جج کا ذاتی فیصلہ ہے، ہمارے سامنے غیر معمولی صورتحال ہے ،ممکن ہے درخواستیں غلط ہوں، جج نے دبا ﺅپر استعفیٰ دیا ہو، جج کے دبا ﺅمیں آکر استعفیٰ دینے سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا‘چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے ریمارکس
جسٹس اعجاز الاحسن جوڈیشل کونسل میں بھی شریک نہ ہوئے‘ سنیارٹی لسٹ میں تیسرے سینئر ترین جج تھے ، اکتوبر میں اگلا چیف جسٹس بننا تھا‘قاضی فائز عیسی کے بعد اگلے چیف جسٹس منصور علی شاہ ہوں گے‘27نومبر2027تک عہدے پررہیں گے
اسلام آباد(کو ر ٹ رپو رٹر) سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج جسٹس اعجاز الاحسن بھی اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنا تحریری استعفی صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کو ارسال کردیا ہے۔واضح رہے کہ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف ہونے والی سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کی کارروائی میں جسٹس اعجاز الاحسن نے بطور ممبر شرکت سے انکار کردیا تھا۔جسٹس اعجازالاحسن نے استعفے میں لکھا کہ آرٹیکل 206 اے کے تحت منصب سے مستعفی ہو رہا ہوں، اعزاز ہے کہ سپریم کورٹ کا جج اور لاہور ہائیکورٹ کا چیف جسٹس رہا، بطور جج سپریم کورٹ میں مزید کام نہیں کرنا چاہتا۔
دوسری جانب صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ منظورکرلیا۔ ایوان صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ وزیرِ اعظم کی ایڈوائس پر آئین کے آرٹیکل 179 کے تحت منظور کیا۔جسٹس اعجاز الاحسن، سپریم کورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں تیسرے سینئر ترین جج تھے اور انہیں رواں سال اکتوبر میں اگلا چیف جسٹس بننا تھا۔سنیارٹی لسٹ کے دوسرے سینئر ترین جج جسٹس سردار طارق مسعود10مارچ 2024کو ریٹائرڈ ہو رہے ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن، شریف خاندان کےخلاف نیب ریفرنسز میں نگران جج بھی رہے تھے۔
جسٹس اعجاز کے استعفے، جسٹس سردار طارق کی ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس منصور سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج ہوں گے اور چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی 25 اکتوبر 2024 کو ریٹائرمنٹ کے بعد جسٹس منصور علی شاہ چیف جسٹس بن جائیں گے۔اس کے ساتھ ہی سپریم جوڈیشل کمیشن اور سپریم جوڈیشل کونسل میں بھی اہم تبدیلیاں ہوگئی ہیں اور جسٹس منصور علی شاہ سپریم جوڈیشل کونسل جبکہ جسٹس یحییٰ آفریدی جوڈیشل کمیشن کا حصہ بن گئے ہیں۔چیف جسٹس قاضی فائزعیسی کے بعد موسٹ سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ ہیں جو کہ 27 نومبر 2027 کو ریٹائر ہوں گے ۔
ان کی سپریم کورٹ میں تعیناتی 6 فروری 2018 کو ہوئی تھی ۔جسٹس منصور علی شاہ کے بعد منیب اختر سینئر جج ہیں جو کہ13دسمبر2028مین ریٹائر ہونے جارہے ہیں ۔ جسٹس منصور علی شاہ کے بطور چیف جسٹس کے دوران سپریم کورٹ کے سینورٹی میں ساتویں اور آٹھویں نمبر پر موجود جسٹس امین الدین اور جسٹس جمال خان مندو خیل ریٹائر ہو جائیں گے ۔

اسلام آباد (کو ر ٹ رپو رٹر)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس قاضی فائز عیسی نے ریمارکس دیئے ہیں کہ یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی جج پورے ادارے کی ساکھ تباہ کر کے استعفیٰ دے جائے اور ہم کوئی کارروائی نہ کریں۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں سابق جج مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف کارروائی کے حوالے سے سپریم کورٹ جوڈیشل کونسل کا اجلاس ہوا۔اجلاس کے آغاز پر اٹارنی جنرل پاکستان منصور عثمان اعوان نے گزشتہ روز استعفیٰ دینے والے جج مظاہر سید مظاہر علی اکبر نقوی کا استعفیٰ پڑھ کر سنایا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر کوئی جج استعفیٰ دے جائے تو کونسل کے رولز کے مطابق اس کے خلاف مزید کارروائی نہیں ہوسکتی۔کونسل کے رکن جسٹس امیر بھٹی کی جانب سے آرٹیکل 209(3) کی نشاندہی کی گئی، اٹارنی جنرل نے کہا کہ آئین کے مطابق کوئی رکن دستیاب نہ ہو تو اس کے بعد سینئر ترین جج کونسل کا رکن ہوگا۔
چیف جسٹس نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن کارروائی میں بیٹھنا نہیں چاہتے، ہم نے دیکھنا ہے کہ کیا ہم 4 اراکین کارروائی کو آگے بڑھا سکتے ہیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 209 کے تحت ایک ممبر کی عدم موجودگی میں سینئر ترین دستیاب جج موجود ہوتا ہے، اگر جسٹس منصور علی شاہ دستیاب ہوئے تو کارروائی کو آگے بڑھائیں گے۔اس کے بعد اجلاس میں مختصر وقفہ کر دیا گیا، وقفے کے بعد کونسل کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو جسٹس منصور علی شاہ کارروائی میں شریک ہوئے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسی نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب معاونت کریں کہ کیا معاملہ ختم ہوگیا؟ یہ استعفیٰ سپریم جوڈیشل کونسل کی کارروائی کے آغاز میں نہیں دیا گیا، کونسل کے شوکاز جاری کرنے کے بعد استعفیٰ دیا گیا۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دئیے کہ ممکن ہے درخواستیں غلط ہوں، جج نے دبا ﺅپر استعفیٰ دیا ہو، جج کے دبا ﺅمیں آکر استعفیٰ دینے سے ادارے کی ساکھ کو نقصان پہنچے گا۔
انہوں نے کہا کہ یقینی طور پر جج کو عہدے سے ہٹانے کی کارروائی تو ختم ہو گئی، استعفیٰ دینا کسی جج کا ذاتی فیصلہ ہے، ہمارے سامنے غیر معمولی صورتحال ہے۔چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیئے کہ یہ نہیں ہو سکتا کوئی جج پورے ادارے کی ساکھ تباہ کر کے استعفیٰ دے جائے اور ہم کوئی کارروائی نہ کریں، پورا پاکستان ہماری طرف دیکھ رہا ہے، کوئی تو فائنڈنگ دینی ہے، شکایات جینوئن تھیں یا نہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوامی اعتماد کا شفافیت سے براہ راست تعلق ہے، کونسل کے سامنے سوال یہ ہے کہ جج کے استعفے کا کارروائی پر اثر کیا ہو گا۔
انہوںنے کہاکہ جج کو ہٹانے کا طریقہ کار رولز آف پروسیجر 2005 میں درج ہے، سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے جون 2023 میں فیصلہ دیا تھا کہ جج ریٹائر ہو جائے تو اس کے خلاف کارروائی نہیں ہو سکتی۔انہوں نے کہا کہ کیس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف شکایتی معلومات سپریم جوڈیشل کونسل کو بھیجی گئیں، کونسل میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے شکایت پر کارروائی نہیں کی، ثاقب نثار کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر آئینی درخواست 2020 میں دائر ہوئی اور فیصلہ 2023 میں ہوا۔چیف جسٹس نے کہا کہ ثاقب نثار کے معاملے میں تو کارروائی شروع نہیں ہوئی تھی جبکہ اب ہو چکی ہے جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہے جس کا سامنا سپریم جوڈیشل کونسل کر رہی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ سپریم جوڈیشل کونسل رائے نہیں دے سکتی،
اگر کونسل میں سے جج کا کوئی دوست کارروائی کے آخری دن انہیں بتا دیتا ہے کہ آپ کو برطرف کرنے لگے ہیں اور وہ استعفیٰ دے جائے تو کیا ہو گا؟ اٹارنی جنرل کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ کارروائی کے دوران جج کا استعفیٰ دے جانا اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے، جو فیصلہ جون 2023 میں آیا وہ دو رکنی بینچ کا تھا جبکہ سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر آنے کے بعد آئینی معاملات پر یہ بینچ فیصلہ نہیں دے سکتا تھا۔سپریم کورٹ نے جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی اور خواجہ حارث کو نوٹس جاری سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس (آج) جمعہ کو ساڑھے گیارہ بجے تک ملتوی کردیا اس حوالے سے ہدایت جاری کی گئی کہ جسٹس مظاہر نقوی اور ان کے وکیل کو کونسل کی کارروائی کے بارے میں آگاہ کیا جائے۔


Leave a Comment